بنگلور 13 فروری (ایس او نیوز) ہم جس خوف اوراحساس کمتری کی زنجیر وں میں قید تھے، آج ہمیں لگتا ہے کہ ہم اُن زنجیروں کو توڑ کر باہر آچکے ہیں، آج ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ ہم اب اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہوں گے اوراپنے حقوق کے لئے جدوجہدکریں گے،ہم اس ملک کے شہری ہیں،ہمیں بھلے ہی اس ملک کے دھارے میں آنے سے روکنے کے لئے روڑے اٹکائے گئے، لیکن ہم اُن سب رکاؤٹوں کو توڑ کر آگے بڑھ چکے ہیں۔ان باتوں کا خیال APCR کے قومی صدر اور ممبئی ہائی کورٹ کے معروف ایڈوکیٹ جناب یوسف مچھالا نے ظاہر کیا۔ وہ یہاں بنگلور میں APCR کے قانونی بیداری ورک شاپ کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے۔ موصوف نے علامہ اقبال کا شعر ’’غلامی میں نہ کام آتی ہیں تقدیریں نہ تدبیریں۔۔۔۔۔۔جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں" پیش کرتے ہوئے نہایت پر عزم لہجے میں کہا کہ آج کے اس کامیاب ورکشاپ کے بعدہمیں اُمید ہے کہ آج سے ہم اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے کمربستہ رہیں گے اور دستور نے جو ہمیں حقوق دئے ہیں اُس کو جدوجہد کی راہ اپناتے ہوئے حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے جو چار آئیڈیلس ہیں، یعنی انصاف، مساوات، خود مختاری اور بھائی چارگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انصاف، مساوات اور خودمختاری کیلئے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے، لیکن بھائی چارگی کے لئے ہم نہیں لڑسکتے، کیونکہ بھائی چارہ پیدا کرنا پڑے گا، اس کی راہ جدوجہد کی نہیں بلکہ مفاہمت اور رواداری کی ہے۔ انہوں نے ملک کے تمام طبقوں سے اپیل کی کہ ملک میں بھائی چارگی کو بڑھاوادینے کے لئے سب مل جل کر کام کریں۔
ریاست کرناٹک کے تقریبا تمام اضلاع سے 300 سے زائد APCR کے سرگرم کارکنان باشمول ہر ضلع کے صدر و سکریٹری نے ورکشاپ میں حصہ لیا، اور قانون کے تعلق سے مکمل جانکاری حاصل کی۔سوال جواب کے وقفہ میں کئی ایک اراکین نے ذمہ داران کو بتایا کہ پولس کس طرح معصوموں کو پھنساتی ہے، کس طرح سرکاری ایجنسیاں غیر قانونی طور پر لڑکوں کا اغوا کرتی ہے اور بعد میں اُن پر کیسس تھوپے جاتے ہیں، کیسے بغیر نوٹس دئے سرکاری اہلکار لڑکوں کو گرفتار کرتے ہیں، ایسے میں جوابی کاروائی کس طرح ہونی چاہئے، ورک شاپ میں ماہرین نے اُن سب کی تفصیل کے ساتھ جانکاری دی۔
پروگرام کا آغاز صبح دس بجے اٰمین احسان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ APCR کے ریاست کرناٹک کے صدر ایڈوکیٹ سعدالدین ایم صالح نے استقبالیہ کلمات پیش کئے۔ قومی صدر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے APCR کے قیام کا مقصد، ذمہ داریاں اور کام کرنے کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ APCR کے قومی کو آرڈی نیٹر اور اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے معروف ایڈوکیٹ ابوبکر سباق نے Criminal justice system in India پر تفصیلی خطاب کیا اور ممبران کو بیش قیمت معلومات سے نوازا۔
ظہرانے کے بعد دوسرے سیشن میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، گورنمینٹ آف کرناٹکا مسٹر اے ایس پوننّا نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور ذمہ داریوں پر تفصیلی خطاب کیا ، جبکہ کرناٹک کے سابق آئی جی پی اور سابق کے پی ایس سی ممبر، مسٹر ڈی این مُنی کرشنا (آئی پی ایس) نے پولس اور سیول رائٹس کارکنان کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور بالخصوص کرناٹکا میں ہیومن رائٹس کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دلائی۔
پروگرام میں گلبرگہ کے APCR کے سرگرم رکن شیخ شفیع احمد اور بھٹکل کے APCR کے ضلعی جنرل سکریٹری قمر الدین مشائخ کی اُن کی خدمات کے اعتراف میں شال پوشی کرتے ہوئے ان کی تہنیت کی گئی ۔
آخر میں APCR کرناٹکا کے سکریٹری ایڈوکیٹ محمد نیاز ایس نے کلمہ تشکر پیش کیا،جس کے ساتھ ہی شام پانچ بجے ورک شاپ اختتام کو پہنچا۔ڈائس پر اے پی سی آر ایگزکیٹیو کمیٹی کے کئی ذمہ داران موجود تھے۔